سکول کا سربراہ ... مستقبل کے تناظر میں

کامیاب سکول سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ تقاضوں کو سمجھے بلکہ آنے والے کل کے لیے بھی اپنے ادارے کو تیار کرے۔

جمیل احمد

5/20/2025

تعلیم کسی بھی قوم کا وہ ستون ہے جس پر اس کی فکری، تہذیبی اور معاشی بنیادیں استوار ہوتی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیمی شعبہ کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، وہاں سکول کے سربراہ (پرنسپل) کی حیثیت محض ایک نگران یا انتظامی افسر کی نہیں، بلکہ ایک وژنری رہنما کی ہے۔ مستقبل کی دنیا بدل رہی ہے؛ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل لرننگ، اور گلوبلائزیشن جیسے رجحانات نے تعلیم کے میدان کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ایسے میں ایک کامیاب سکول سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف موجودہ تقاضوں کو نہ سمجھے بلکہ آنے والے کل کے لیے بھی اپنے ادارے کو تیار کرے۔

تعلیمی قیادت کی نئی تعریف

ماضی میں سکول کا سربراہ زیادہ تر نظم و ضبط، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی کارکردگی، اور نصاب کی پیروی جیسے معاملات کا نگران سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج کے دور میں یہ کردار محض انتظامی نہیں بلکہ قائدانہ (لیڈرشپ) بن چکا ہے۔ سربراہ کو ایک تعلیمی رہنما کے طور پر ابھرنا ہوگا جو نہ صرف تدریسی معیار بلند کرے بلکہ اساتذہ اور طلبہ کو ایک مقصد سے جوڑنے والا محرک بھی ہو۔

ہمارے سکولوں کی زمینی حقیقت

ہمارے ملک میں تعلیم کا نظام یکساں نہیں۔ شہری اور دیہی سکولوں میں سہولیات، تربیت یافتہ اساتذہ، اور ٹیکنالوجی تک رسائی میں واضح فرق ہے۔ بعض نجی ادارے جدید سہولیات سے آراستہ ہیں جبکہ بیشتر سرکاری اور دور دراز کے سکول بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ ان حالات میں سکول سربراہ کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ دستیاب وسائل کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لا کر تعلیمی معیار کو بہتر بنائے۔

مستقبل کے تقاضے: سربراہ کی ترجیحات کیا ہوں؟

مستقبل کی دنیا میں کامیابی کے لیے طلبہ میں صرف نصابی علم کافی نہیں ہوگا۔ تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی مہارت، کمیونیکیشن اسکلز، اور ڈیجیٹل لٹریسی جیسی صلاحیتیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ سکول سربراہ کو اپنے ادارے میں ایسی تعلیمی فضا پیدا کرنی ہوگی جہاں یہ مہارتیں پروان چڑھ سکیں۔

1. ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا فروغ:
سربراہ کو اساتذہ اور طلبہ دونوں کی ڈیجیٹل مہارتوں پر توجہ دینی ہوگی۔ کمپیوٹر لیب، سمارٹ بورڈز، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور ای-لرننگ کے رجحان کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

2. اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی:
ایک سکول کی کامیابی کا انحصار اچھے اساتذہ پر ہوتا ہے۔ سربراہ کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ تربیتی ورکشاپس، کوچنگ، اور ریسورس شیئرنگ کے مواقع فراہم کرے تاکہ اساتذہ جدید تدریسی طریقوں سے واقف رہیں۔

3. نصاب میں جدت اور مقامی تقاضوں کی ہم آہنگی:
اگرچہ نصاب بورڈ یا حکومت کی سطح پر طے ہوتا ہے، لیکن سربراہ اپنے سکول میں اضافی سرگرمیوں (supplementary activities) کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں، اخلاقی اقدار، اور سماجی شعور کو فروغ دے سکتا ہے۔

4. طلبہ کی کونسلنگ اور کیریئر گائیڈنس:
آج کے دور میں طلبہ کو صرف نمبر لینے کی نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور درست تعلیمی و پیشہ ورانہ راہ چننے کی ضرورت ہے۔ سکول سربراہ کو چاہئے کہ وہ کیریئر کونسلنگ کا باقاعدہ نظام متعارف کروائے۔

5. شمولیتی تعلیم (Inclusive Education):
مختلف ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے حامل بچوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا کرنا ایک ترقی یافتہ تعلیمی ادارے کی علامت ہے۔ سربراہ کو چاہیے کہ وہ خصوصی طلبہ کے لیے سہولیات اور معاون عملہ فراہم کرے۔

کمیونٹی کے ساتھ ربط

سکول سربراہ کو مقامی کمیونٹی، والدین، اور سابق طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے۔ سکول کی پالیسی سازی، فنڈنگ، اور تعلیمی ماحول کی بہتری میں کمیونٹی کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ سربراہ اگر کمیونٹی کو اپنا پارٹنر بنا لے تو سکول کا ماحول تیزی سے بہتر ہو سکتا ہے۔

قیادت کا ماڈل: آمرانہ یاشراکتی؟

ماضی میں سکولوں میں آمرانہ قیادت عام تھی۔ سربراہ سب فیصلے خود کرتا، اور باقی عملہ محض احکامات پر عمل کرتا۔ مگر آج کے دور میں شراکتی قیادت (Participative Leadership) زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ ایک کامیاب سربراہ وہی ہوتا ہے جو اپنے اساتذہ، طلبہ، اور دیگر اسٹاف کی رائے لے، ٹیم ورک کو فروغ دے، اور اجتماعی اہداف کے لیے سب کو متحرک کرے۔

نتائج کا تجزیہ اور بہتری کا لائحہ عمل

سکول سربراہ کو چاہیے کہ وہ سالانہ تعلیمی کارکردگی، امتحانی نتائج، اور اساتذہ و طلبہ کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری کے لیے قابل عمل لائحہ عمل مرتب کرے۔ سادہ زبان میں، "Evaluate – Reflect – Improve" کا ماڈل اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔

حاصل کلام: مستقبل کی تیاری، آج سے

سکول کا سربراہ اگر بصیرت، خلوص اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائے، تو وہ نہ صرف موجودہ تعلیمی نظام میں بہتری لا سکتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن بھی کر سکتا ہے۔ یہ وقت روایتی سوچ سے نکل کر جدید تقاضوں کو اپنانے کا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بدلتی دنیا میں نہ صرف زندہ رہیں بلکہ نمایاں ہوں، تو ہمیں اپنے سکولوں کو، اور بالخصوص ان کے سربراہان کو، نئے وژن کے ساتھ تیار کرنا ہوگا۔