کیرئیر کا فیصلہ کیسے کریں؟
ضروری ہے کہ طالب علم ایک باقاعدہ سوچ بچار، تحقیق اور رہنمائی کے ذریعے اپنے تعلیمی اور کیرئیر راستے کا انتخاب کریں۔
جمیل احمد
5/11/2025
زندگی میں کامیابی کا انحصار صرف محنت پر نہیں بلکہ صحیح سمت میں کی گئی محنت پر ہوتا ہے۔ جب بات طالب علموں کے مستقبل کی آتی ہے، تو سب سے اہم سوال یہی ہوتا ہے کہ وہ کون سا مضمون یا کیرئیر منتخب کریں جو نہ صرف ان کی دلچسپی کے مطابق ہو بلکہ مستقبل میں معاشی اور پیشہ ورانہ ترقی کا ذریعہ بھی بن سکے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر یہ فیصلے جذباتی، روایتی یا خاندانی دباؤ کے تحت کیے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان آگے جا کر اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی سے غیر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ طالب علم ایک باقاعدہ سوچ بچار، تحقیق اور رہنمائی کے ذریعے اپنے تعلیمی اور کیرئیر راستے کا انتخاب کریں۔
سب سے پہلا قدم خود آگاہی ہے۔ ہر طالب علم کو اپنے اندر جھانک کر یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی دلچسپیاں، صلاحیتیں اور رجحانات کیا ہیں۔ کیا آپ کو سائنسی مسائل حل کرنے میں مزہ آتا ہے؟ یا آپ کو دوسروں کی مدد کرنا پسند ہے؟ کیا آپ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہیں یا آپ کو کاروبار میں دلچسپی ہے؟ یہ سب سوالات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ آپ کا قدرتی رجحان کس طرف ہے۔ آج کل مختلف تعلیمی ادارے اور کیرئیر کونسلنگ سروسز ایسے سائنسی ٹیسٹ فراہم کرتی ہیں ، جن سے آپ اپنے رجحانات اور شخصیت کے مطابق مضامین اور پیشوں کی فہرست حاصل کر سکتے ہیں۔
دوسرا اہم مرحلہ معلومات کا حصول ہے۔ محض اپنے رجحانات کو جان لینا کافی نہیں بلکہ آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مارکیٹ میں کون سے شعبے ترقی کر رہے ہیں، کون سے مضامین کے ساتھ کون سے کیرئیر جڑے ہوتے ہیں، اور ان میں ترقی کے امکانات کیا ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو کمپیوٹر سائنس میں دلچسپی ہے تو آپ کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبے اس مضمون سے کیسے منسلک ہیں اور ان کی مارکیٹ ویلیو کیا ہے۔ اس قسم کی معلومات کے لیے انٹرنیٹ، پیشہ ور افراد سے ملاقات، کیرئیر گائیڈ بکس اور تعلیمی میلوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
تیسرا پہلو عملی تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ اگر ممکن ہو تو مختلف پیشوں کا قریبی مشاہدہ کریں، ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد سے بات کریں، یا انٹرن شپ کے ذریعے کچھ وقت کسی ادارے میں گزاریں۔ اس سے آپ کو یہ اندازہ ہوگا کہ کسی شعبے میں روزمرہ کام کس نوعیت کا ہوتا ہے، اس کا ماحول کیسا ہے، اور آپ خود کو اس ماحول میں فٹ محسوس کرتے ہیں یا نہیں۔ ایک ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا خیال شاید دلچسپ لگے، مگر جب تک آپ ان کے کام کے حقیقی پہلو نہیں دیکھیں گے، فیصلہ ادھورا رہے گا۔
چوتھا اور نہایت اہم پہلو والدین، اساتذہ اور کیرئیر کونسلرز کی رہنمائی ہے۔ بعض اوقات طالب علم خود فیصلہ نہیں کر پاتے یا وہ دستیاب معلومات کو درست طور پر سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں تجربہ کار اور ہمدرد افراد کی رہنمائی بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ والدین کا کردار یہاں انتہائی اہم ہے مگر ان پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی خواہشات طالب علم پر تھوپنے کی بجائے ان کی دلچسپیوں کو سمجھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
اس سب کے ساتھ ساتھ ہمیں اس حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جو کیرئیر آج مقبول ہیں، ضروری نہیں کہ وہ دس سال بعد بھی اتنے ہی کارآمد ہوں۔ اسی لیے سیکھنے کا عمل جاری رکھنا، نئی مہارتیں سیکھنا اور وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنا، کامیاب کیرئیر کی ضمانت ہے۔ فری لانسنگ، آن لائن بزنس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور مصنوعی ذہانت جیسے نئے شعبے اس کی مثالیں ہیں، جو روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ اضافی تربیت اور خوداعتمادی بھی مانگتے ہیں۔
آخر میں، طالب علموں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا یہ فیصلہ سنجیدگی سے کریں کیونکہ یہی فیصلہ ان کی باقی زندگی کا رخ متعین کرے گا۔ جذباتی یا وقتی فیصلوں کی بجائے سوچا سمجھا، تحقیق شدہ اور مشورے سے کیا گیا فیصلہ انہیں نہ صرف ذہنی سکون دے گا بلکہ کامیاب اور مطمئن پیشہ ورانہ زندگی کی طرف بھی لے جائے گا۔ یاد رکھیں، درست سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم، آپ کو منزل کے بہت قریب لا سکتا ہے۔


Follow Us
Support
info@testmycareer.com
+92-312-5089806
© 2025. All rights reserved.